Tuesday, March 5, 2013

کشور ناہید : ہم کے ملغوبِ گماں تھے پہلے

ہم کہ مغلوبِ گماں تھے پہلے
پھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے

خواہشیں جھریاں بن کرابھریں
زخم سینے میں نہاں تھے پہلے

اب تو ہر بات پہ رو دیتے ہیں
واقفِ سود و زیاں تھے پہلے

دل سے جیسے کوئی کانٹا نکلا
اشک آنکھوں سے رواں تھے پہلے

اب فقط انجمن آرائی ہیں
اعتبارِ دل و جاں تھے پہلے

دوش پہ سر ہے کہ ہے برف جمی
ہم تو شعلوں کی زباں تھے پہلے

اب تو ہر تازہ ستم ہے تسلیم
حادثے دل پہ گراں تھے پہلے

میری ہمزاد ہے تنہائی میری
ایسے رشتے بھی کہاں تھے پہلے

کشور ناہید : بیمار ہیں تو اب دمِ عیسٰی کہاں سے آئے ؟

بیمار ہیں تو اب دمِ عیسٰی کہاں سے آئے ؟
اُس دل میں دردِ شوقِ تمنا کہاں سے آئے ؟

بے کار شرحِ لفظ و معنی سے فائدہ
جب تو نہیں تو شہر میں تُجھ سا کہاں سے آئے ؟

ہر چشم سنگِ خذب و عداوت سے سرخ ہے
اب آدمی کو زندگی کرانا کہاں سے آئے

وحشت حواس کی چاٹ گئی خاکِ جسم کو
بے در گھروں میں شاکی کا سایا کہاں سے آئے

جڑ سے اُکھڑ گئے تو بدلتی ُرتوں سے کیا
بے آب آئینوں میں سراپا کہاں سے آئے ؟

سایوں پہ اعتماد سے اُکتا گیا ہے جی
طوفاں میں زندگی کا بھروسہ کہاں سے آئے ؟

غم کے تھپیڑے لے گیا ناگن سے لمبے بال
راتوں میں جنگلوں کا وہ سایہ کہاں سے آئے ؟

Monday, April 18, 2011

کشور ناہید : وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا
دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا

ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھی
کچ اس لیے بھی کم نگہی کا گل نہ تھا

دست خیال یار سے چھوٹے شفق کے رنگ
نقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا

ڈھونڈا بہت اسے کہ بلایا تھا جسنے پاس
جلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ تھا

کچھ اس قدر تھی گرمی بازار آرزو
دل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا

کیسے کریں ذکر حبیب جفا پسند
جب نام دوستوں میں بھی لینا روا نہ تھا

کچھ یوں ہی زرد زرد سی ناہید آج تھی
کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا