Monday, April 18, 2011

انور مسعود : کب ضیاء بار ترا چہرہ ِ زیباہوگا

کب ضیاء بار ترا چہرہ ِ زیباہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اُجالا ہوگا

مشغلہ اُس نے عجب سونپ دیا ہے یارو
عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبعیت اُس کی
جانے کس ڈھنگ سے اب اُس کو منانا ہوگ
ا
اِس طرف شہر اُدھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا

یہی اندازِ دیانت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

دیکھنا حال ذرا ریت کی دیواروں کا
جب چلی تیز ہوا ایک تماشا ہوگا

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انور
ہم تو خنجر کو بھی سمجھے یدِ بیضا ہوگا

انور مسعود : میں جُرمِ خموشی کی صفائی نہیں دیتا

میں جُرمِ خموشی کی صفائی نہیں دیتا
ظالم اُسے کہیے جو دُہائی نہیں دیتا

کہتاہے کہ آواز یہیں چھوڑ کے جاو
میں ورنہ تمہیں اِذنِ رہائی نہیں دیتا

چَرکے بھی لگے جاتے ہیں دیوارِ بدن پر
اوردستِ ستمگر بھی دکھائی نہیں دیتا

آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیاء بھی
سب کچھ ہے مگر ہاتھ سجھائی نہیں دیتا

اب اپنی زمیں چاند کی مانند ہے انور
بولیں توکسی کو بھی سنائی نہیں دیتا

انور مسعود : رات آئی ہے بلاوں سے رہائی دے گی

رات آئی ہے بلاوں سے رہائی دے گی
اب نہ دیوار نہ زنجیر دکھائی دے گی

یہ دُھندلکا سا جو ہے اس کو غنیمت جانو
دیکھنا پھر کوئی صورت نہ سجھائی دے گی

دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ تماشا ہوگا
کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی دے گی

ساتھ کے گھر میں بڑا شور بپا ہے انور
کوئی آئے گاتو دستک نہ سنائی دے گی