سوز غم دے کے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جنکو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا مینے تجھے یاد کیا
اسکا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اسکا غم ہے کہ بہت در میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شائد
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جنکو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا مینے تجھے یاد کیا
اسکا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اسکا غم ہے کہ بہت در میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شائد
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا