جب وہ چلمن کو بڑھا ديتا ہے
نُطق تب ازنِ نوا ديتا ہے
ابّر دريا پہ اگر برسے تو
دشت ميں آگ لگا ديتا ہے
آئينہ ہو کے وہ منظر ميرا
سامنے ميرے سجا ديتا ہے
ميری تقدير بدل جاتی ہے
جب مرا پير دعا ديتا ہے
وہ جو اک روذِ جزّا سنتے ہيں
کيا وہ بچھژوں کو ملا ديتا ہے
اتنا وہ خوابِ طرّب ہے معلوم
نيند سے کوئ جگا ديتا ہے
نُطق تب ازنِ نوا ديتا ہے
ابّر دريا پہ اگر برسے تو
دشت ميں آگ لگا ديتا ہے
آئينہ ہو کے وہ منظر ميرا
سامنے ميرے سجا ديتا ہے
ميری تقدير بدل جاتی ہے
جب مرا پير دعا ديتا ہے
وہ جو اک روذِ جزّا سنتے ہيں
کيا وہ بچھژوں کو ملا ديتا ہے
اتنا وہ خوابِ طرّب ہے معلوم
نيند سے کوئ جگا ديتا ہے