Sunday, June 12, 2011

مظفر منصور : جب وہ چلمن کو بڑھا ديتا ہے

جب وہ چلمن کو بڑھا ديتا ہے
نُطق تب ازنِ نوا ديتا ہے

ابّر دريا پہ اگر برسے تو
دشت ميں آگ لگا ديتا ہے

آئينہ ہو کے وہ منظر ميرا
سامنے ميرے سجا ديتا ہے

ميری تقدير بدل جاتی ہے
جب مرا پير دعا ديتا ہے

وہ جو اک روذِ جزّا سنتے ہيں
کيا وہ بچھژوں کو ملا ديتا ہے

اتنا وہ خوابِ طرّب ہے معلوم
نيند سے کوئ جگا ديتا ہے

مظفر منصور : کہیں رُوپ رُوپ دیئے بُجھے کہیں زُلف سایہ بچھا لیا

کہیں رُوپ رُوپ دیئے بُجھے کہیں زُلف سایہ بچھا لیا
بڑی تِیرگی تھی ترے نگر سو میں اپنا گھر ہی جلا لیا

مرے حرف حرف تھے آیئنے کہ جو عکس آیا ٹھہر گیا
مری چشمِ خواب کے معجزے اُسے رتجگوں میں جگا لیا

مری زندگی بھی عجیب تھی، مری موت مجھ سے قریب تھی
مرے چارہ گر بڑی دُور تھے سو میں اپنا لاشہ اُٹھا لیا

کبھی مے و مینا میں گُم رہا کبھی ذات نشّے میں خُم رہا
مری عمرِ ہجر طویل تھی اسے جاگتے میں سُلا لیا

یہی بام و در کبھی خواب تھے یہی بام و در کہ عذاب ہیں
وہ جو میرے گھر میں بسا نہیں اسے چشمِ تر میں بسا لیا

تری کائناتوں کے درمیاں کئی روپ رنگ تھے ضَو فشاں
جسے چاہا خود سے جدا کیا جسے چاہا خود میں ملا لیا

کوئی لب ہلے تو دیئے جلے جو نویدِ صبحِ وصال تھے
کو ئی نور جی میں بکھر گیا کسی تِیرگی کو بجھا لیا

کوئی لامکانی طلسم تھا جو سبھی زمانوں کا اِسم تھا
وہ ہر ایک شے پہ جو بار تھا مرے عشق نے وہ اُٹھا لیا

مرے ہم نفَس مری زندگی ترے بن تو جاں سے گزر چلی
کبھی یوں لگے کہ جُدا ہے تُو کبھی یوں لگے تجھے پا لیا

مظفر منصور : آئینے کی بزم تھی اک آئینہ تھا سامنے

آئینے کی بزم تھی اک آئینہ تھا سامنے
آشنا بیٹھا تھا کوئی آشنا تھا سامنے

کیسا نظارہ کہ ہوشِ دید ہی جاتا رہا
وہ قیامت حسن وہ قامت حیا تھا سامنے

ہوش ہوتے بھی تو کیا الفاظ میں ڈھلتا وہ شوخ
جانیئے کیا کیا نہاں تھا جانے کیا تھا سامنے

مانگنا آتا نہیں ورنہ اسی کو مانگتا
میں رہا خاموش سر تاپا دعا تھا سامنے

میری آنکھوں میں نہیں تھا جلوہ گر چہرہ تیرا
اک حیاء پیکر کا چہرہ آ گیا تھا سامنے

میں اک اپنی دھن میں تیری بزم کی رونق رہا
جانیئے کیا ناروا تھا کیا روا تھا سامنے

ہجر کی بارش میں جلتا تھا مرے دل کا نگر
سائباں میں بھیگتا وہ بھی کھڑا تھا سامنے

اک فسوں کے گھیر میں سب سے جدا رہتا ہے وہ
بھیڑ تھی عالم کی لیکن وہ جدا تھا سامنے

اپنی اپنی روشنی تھی اپنا اپنا تھا سفر
اک دیا تھا دل مرا اور اک دیا تھا سامنے

وہ جہاں جبریل بھی لا چار تھا اس اوج پر
اک محمد مصطفٰی تھا اک خدا تھا سامنے

مظفر منصور : ننگِ بدّن تھا مجھکو گلے ميں جو ہار تھا

ننگِ بدّن تھا مجھکو گلے ميں جو ہار تھا
حائيل مجھے جنوں ميں گريباں کا تار تھا

ہم ايک راستے کے مسافر رہے مگر
ميرا تجھے تھا اپنا مجھے انتظار تھا

کھلتے بکھر گيا ہے ندائے بہار سے
گويا وہ گُل نہيں تھا دلِ بے قرار تھا

نسياں کے طاق پر بھی نہيں آج ھائے حيف
وحشت ميں اک خيال جو وجہہِ قرار تھا

مقتول ہوں ميں اسکی ادائے حجاب کا
کيونکر کہوں جو گفتہِ گفتارِ يار تھا

تھی تيرے ساتھ آب و ہوائے نشاطِ جاں
خواب و خيال و روح و بدّن ہمکنار تھا

رنجِ سفر کسی کے تصّور ميں کٹ گيا
ورنہ جو گُل تھا رہ ميں وہی موئے خار تھا