Wednesday, June 22, 2011

حبیب جالب : یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں

یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں
یہ زندگی نصیب ہے لوگوں کو کم یہاں

کوشش کے باوجود بھلائے نہ جائیں گے
ہم پر جو دوستوں نے کئے ہیں کرم یہاں

کہنے کو ہمسفر ہیں بہت اس دیار میں
چلتا نہیں ہے ساتھ کوئی دو قدم یہاں

دیوار ِ یار ہو کہ شبستانِ شہرِ یار
دو پل کو بھی کسی کے نہ سائے میں تھم یہاں

نظمیں اداس اداس فسانے بُجھے بُجھے
مدت سے اشکبار ہیں لوح و قلم یہاں

اے ہم نفس یہی تو ہمارا قصور ہے
کرتے ہیں دھڑکنوں کے فسانے رقم یہاں

Monday, April 18, 2011

حبیب جالب : اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں ، یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند ، یہ پر نور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارمان ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح ، میری صبح پے روتی رہی شبنم
ہر رات میری رات پے ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں آے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہی زلفوں کو سنوارے